facebook

Breaking News

حضرت اۤدم علیہ السلام کی اولاد کا ذکر (حصہ دوئم)

حضرت اۤدم علیہ السلام کی اولاد کا ذکر (حصہ دوئم)
Qasasulambia

یہ سب کچھ اہل کتاب میں صریح طور پر موجود ہے۔ اۤسمان سے نازل شدہ باتوں کا ان تاریخ کی کتابوں میں محفوظ و مصون ہونا محلِ نظر ہے۔ بہت سے علماء نے اس پر نقد کیا ہے۔
ظاہر یہی ہے کہ ان میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بعض نے یہ باتیں زائد اور تفسیر و توضیح کیلئے ذکر کردی ہیں ان میں بہت سی غلطیاں دراۤئیں ہیں ۔  ہم مناسب جگہ ان کا ذکر کریں گے۔ انشاء اللہ۔
ابن جریرؒ نے اپنی تاریخ میں بعض سے ذکر کیا ہے کہ حواء نے اۤدم کی پشت سے بیس امیدوں سے چالیس افراد جنم دیئےتھے ۔ یہ بات محمد بن اسحق نے بیان کی اور ان کے نام بھی لکھے ہیں۔ بعض نے کہا ایک سو بیس امیدوں سے دوسو چالیس افراد پیدا کئے اور ہر دفعہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی جنم دی۔ پہلا قابیل تھا اور اس کی بہن "قلیما" تھی اور اۤخری عبدالمغیث اور اس کی بہن ام المغیث تھی۔  اس کے بعد لوگ پھیل گئے اور بہت زیادہ ہو گئے۔ اور زمین میں ادھر اُدھر سکونت پدیر ہوئے اور اس کی نسل بڑھتی رہی۔

جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
( سورۃ النسا: 1) ترجمہ: "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرجاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اسی سے اس کی بیوی بنائی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور  عورتیں پھیلا دیے۔"
اہل تاریخ نے ذکر کیا ہے کہ اۤدم نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد سے چار لاکھ نفوس دیکھے۔ واللہ اعلم۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(سورۃ الاعراف: 189 - 190) ترجمہ: "وہ جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تا کہ وہ اس کی طرف سکون حاصل کرے۔ پس جب اسے نے اس کو ڈھانپا (اس سے جماع کیا) تو ہلکا سا حمل ہوا ہو اس کو لے کر چلتی پھرتی رہی جب وہ بوجھل ہو گئی تو ان دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں نیک (بچہ) دے گا تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ پس جب اس نے ان کو نیک (بچہ) دیا تو انہوں نے اس (اللہ) کے دیئے ہوئے میں اس کے شریک بنائے۔ پس اللہ ان کے شرک سے بلند ہے۔"

اس اۤیت میں پہلے اۤدم علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ بعد میں پوری جنس کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ صرف اۤدم اور حواء کا ذکر مراد نہیں ہے۔ بلکہ جب ایک شخص کا ذکر ہوا تو اس کی مناسبت سے پوری جنس کا بیان شروع کر دیا گیا۔

جیسےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(سورۃ المؤ منین: 12 تا 13) ترجمہ: "اور تحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس ے نطفہ بنا کر ایک محفوض جگہ قرار دے دیا۔"

اس اۤیت سے پہلے بھی اۤدم علیہ السلام کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور بعد میں عام انسانوں کے پیدا کرنے کا تذکرہ ہے۔ اور ایک اور جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

(سورۃ الملک: 5) ترجمہ: "اور یہ معلوم ہے کہ شیاطین کو مارنے کی چیزیں عین اۤسمان کےچراغ ستارے نہیں۔ بلکہ شہاب ثاقب ہیں جو اجرام فلکی ہی سے ہیں۔ تو گویا یہاں بھی شخصیت و عینیت سے جنس کی طرف لوٹنا اور منتقل ہونا ہے۔ یعنی کوئی شعلہ نما چیزیں ہیں جو ستاروں سے حاصل کی گئی ہیں۔ البتہ ایک حدیث مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔: جب حواء کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو ابلیس اس کا چکر لگاتا اور اس کا بچہ زندہ نہیں رہتا تھا۔ ابلیس نے کہا اس کا نام عبدالحارث رکھنا وہ زندہ رہے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا تو وہ زندہ رہا۔ اس نے یہ کام شیطان کی یہ بات اس کے ذہن میں ڈالنے اور حکم کرنے کی وجہ سے کیا تھا۔

No comments