حضرت اۤدم علیہ السلام کی اولاد کا ذکر (حصہ سوئم)
حضرت اۤدم علیہ السلام کی اولاد کا ذکر (اۤخری حصہ)
(مسند احمد (11/5۔ حلبی) والتری مذی (3077) علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھئے: ضعیف الجامغ الصغیر(4769)
ابنِ جریر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ رحمہم اللہ علیہم نے یہ روایت اپنی تفاسیر میں اس مذکورہ آیت کے تحت ذکر کی ہے اور حاکمؒ نے اپنی مستدرک میں بیان کی ہے۔ ان سب نے یہ روایت عبدالصمد بن عبدالوارثکے واسطہ سے ذکر کی ہے۔ حاکمؒ نے کہا یہ روایت صحیح سندوالی ہے اور بخاری اور مسلم نے اس کو اپنی اپنی صحیح میں ذکر نہی کیا۔ ترمذی نے کہا یہ روایت حسن غریب ہے۔ ہم اس کو عرم بن ابراہیم کے واسطہ سے ہی بہچانتے ہیں۔ بعض نے اس کو عبدالحمد سے بیان کیا اور مرفوع ذکر نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث میں یہی علت قادحہ (نقصان دہ خرابی) ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے اور ظاہر یہ ہے کہ صحابی نے یہ بات اسرائیلیات سے اخذ کی ہے۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت موقف (صحابی کا قول) مروی ہے۔ کہ یہ کعب الاحبار اور ان جیسے لوگوں سے لی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔
بڑی اہم بات یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی حسن بصریؒ نے اس اۤیت کی تفسیر مذکورہ حدیث کے خلاف کی ہے اگر یہ حدیث اس کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع ثابت ہوتی تو وہ کسی اور تفسیر کی طرف مائل نہ ہوتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اۤدمؑ اور حواء کو اس لیے پیدا کیا تھا تا کہ ان سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلائیں۔ جب ان کو پیدا کرنے کا مقصد یہ تھا تو پھر ان کا بچہ زندہ کیوں نہیں رہتا تھا۔ ظنی نہیں بلکہ قطعی بات یہ ہے کہ اس روایت کا ببی اکرم ﷺ تک مرفوع ہونا غلط ہے۔ اس کا موقوف ہونا درست ہے۔ ہم نے اپنی تفسیر میں یہ بات مفصل طور پر درج کی ہے۔(وَلِلّٰہِ الحَمد) پھر اۤدمؑ اور حواء اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے۔ مذکورہ کام ان سے کیسے سرزد ہوسکتا ہے؟ اۤدم علیہ السلام انسانوں کے باپ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا ، ان میں روح پھونکی، فرشتوں سے ان کو سجدہ کروایا، ان کو تمام چیزوں کے نام سکھائے اور ان کو اپنی جنت میں بسایا۔ پھر جیسے کہ ابو ذرؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کتنے ہیں؟ اۤپ ﷺ نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ میں نے کہا: ان میں رسول کتنے ہیں؟ اۤپ ﷺ نے فرمایا: تین سو تیرہ۔ میں نے کہا: ان میں سب سے پہلا کون ہے؟ فرمایا: اۤدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نبی مرسل ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ اللہ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا پھر اس میں اپنی روح پھونکی، پھر اس کو درست اور برابر کر دیا۔
(مسند احمد(266/5. حلبی) والطبر انی فی الکبیر(7871)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کیا میں تمہیں فرشتوں میں افضل ترین کے بارے میں خبر نہ دوں، وہ جبریل علیہ اسلام ہیں اور انبیاء سے افضل اۤدم ہیں۔ دنوں میں افضل جمعہ کا دن ہے، مہینوں میں افضل رمضان ہے، راتوں میں افضل قدرت کی رات ہے، عورتوں سے افضل مریم بنتِ عمران ہے۔




No comments