facebook

Breaking News

اۤدم علیہ السلام کے جنت میں ٹھہرنے کی مدت

اۤدم علیہ السلام کے جنت میں ٹھہرنے کی مدت

جب اۤدم علیہ السلام جنت میں رہائش پذیر ہوئے ، تو وہ اور ان کی بیوی وہاں ٹھہر کر وافر اور روک ٹوک کے بغیر کھاتے پیتے۔  جب ممنوعہ درخت سے وہ پھل کھا بیٹھے تو ان کا لباس چین لیا گیا اور زمین کی طرف اتار دیے گئے۔
اس اترنے کے متعلق بھی اختلاف گزر چکا ہے۔ اور اب اس کے بارے میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ اۤدم (علیہ السلام) جنت میں کتنی دیر مقیم رہے۔  بعض نے کہا ہے کہ دنیا کے دنوں میں سے ایک دن کا کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں۔  صحیح مسلم کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اۤدم (علیہ السلام) جمعہ کے دن کے اوقات میں سے اۤخری وقت میں پیدا ہوئے۔ اور صحیح مسلم کی ابو ہریرہ؟ سے یہ روایت بھی گزر چکی ہے ہے کہ اۤدم علیہ السلام جمع کے دن پیدا ہوئے اور اسی (جمعہ) دن جنت سے نکالے گئے۔ اۤدم (علیہ اسلام) جس دن پیدا ہوئے اگر اسی دن جنت سے نکالے گئے اور دن کی مقدار بھی دنیا کے دنوں جیسی ہےتو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا کے دن کا کچھ حصہ جنت میں مقیم رہے اور یہ بات محلِ نظر ہے۔ اگر پیدائش کے دن کے سوا کسی اور میں نکالے گئےیا ان چھ دنوں کی مقدار دنیا کے چھ ہزار سال جتنی ہے جیسا کہ ابن عباس(رضی اللہ عنہ)، مجاہدؒ ، ضحاک ؒ، کا نظریہ پہلے ذکر ہوا اور ابن جریر کی پسندیدہ رائے بھی یہی ہے تو اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ لمبا عرصہ جنت میں مقیم رہے۔

علامہ ابن جریرؒ نے کہا: اۤدم علیہ السلام کا جمعہ کے دن اس کی اۤخری گھڑی میں پیدا ہونا، معروف و معلوم ہے۔
اور اس کی ایک گھڑی کی مقدار تراسی سال چار ماہ بنتی ہے۔ اس لحاظ سے روح پھونکے جانے سے پہلے مٹی کی صورت میں چالیس سال ٹھہرے رہے اور ترتالیس برس اور چار ماہ جنت میں مقیم رہے۔ اس کے بعد زمین کی طرف اتارے گئے۔(تاریخ طبری، 78/1)۔

حضرت عطاء بن ابی رباحؒ سے مروی ہے جب اۤدم علیہ اسلام زمین میں اتارے گئے تو ان کے پاوۤں زمین پر اور سر اۤسمان میں تھا۔ پھر اللہ نے ان کا قد کم کر کے ساٹھ ہاتھ کر دیا۔ ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ لیکن یہ بات محلِ نظر ہے اور ٹھیک معلوم نہیں ہوتی کیونکہ بخاری و مسلم کی ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی روایت گزر چکی ہے کہ پیدائش کے وقت ساٹھ ہاتھ سے زیادہ لمبے قد کے نہیں تھے اور اس کی اولاد کے قد میں اب تک کمی ہو رہی ہے۔ اب جریر نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اۤدم کو کہا میرے عرش کے بالکل برابر ایک عزت و احترام کی جگہ ہے وہاں میرا گھر تعمیر کر  اور اس کا طواف کر۔ جیسے میرے فرشتے میرے عرش کا طواف کرتے ہیں۔ پس اللہ نے اس کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجا جس نے اۤدم (علیہ السلام) کو وہ جگہ دکھائی اور حج کا طریقہ سکھایا اور بتایا کہ اۤدم کا اٹھایا گیا ایک ایک قدم اللہ کے قرب کا درجہ بنے گا۔ یا (ایک نسخے کے الفاظ کے مطابق) اۤدم (علیہ السلام) نے جہاں جہاں قدم رکھا وہاں ایک ایک بستی بن گئی۔ اسی سے مروی ہے کہ زمین میں سب سے پہلے اۤدم (علیہ السلام) کو جو چیز کھانے کے لیے ملی وہ یہ تھی کہ جبریل علیہ السلام اس کے پاس سات گندم کے دانے لائے۔ کہا: یہ کیا ہے؟ جبریل نے کہا : یہ اس درخت میں سے ہے جس کو کھانے اۤپ کو روکا گیا تھا۔ کہا : اب اس کو کیا کرنا ہے؟ فرمایا: اس کو زمین میں کاشت کر، اس نے اس کوکاشت کیا تو ہر دانہ ایک لاکھ کی مقدار سے زیادہ تھا۔ پس وہ اُگا، پھر بڑھا، اس نے اسے کاٹا، اس کو گواہا، اڑاکے غلے کو بھوسے سے الس کیا، اس کو پیسا ، پھر اۤٹا گوندھا اور روٹی پکائی۔ اتنی مشقت ، محنت اور تھکن کے بعد کھانا کھایا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اسی مفہوم کا اۤئینہ دار ہے:

(سورۃ طٰہٰ: 117) ترجمہ: "وہ (شیطان) تمہیں جنت سے نکال نہ دے کہ تم مشقت و مصیبت میں پڑ جاوۤ۔"

اۤدم اور حواء نے سب سے پہلے بھیڑ کی اون کا لباس زیب تن کیا۔ پہلے اون کو کاٹا، پھر اسے کاتا۔ اۤدم علیہ السلام نے اپنے لیے ایک جبہ تیار کیا اور حواء نے ایک قمیض اور اوڑنی تیار کی۔ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اۤیا جنت میں اۤدم اور حواء کے ہاں اولاد پیدا ہوئی یا نہیں؟ ایک قول یہ ہے کہ ان کی اولاد صرف زمین میں پیدا ہوئی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جنت میں ان کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔ قابیل اور اس کی بہن جنت میں پیدا ہوئے۔ واللہ عالم یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ان کے ہاں ہر دفعہ لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے اور حکم تھا کہ ایک جوڑے کی لڑکی کی شادی دوسرے جوڑے کے لڑکے سے کر دی جائے۔ اور دوسرے جوڑے کی لڑکی کی شادی پہلے جوڑے کے لڑکے کے ساتھ کی جائے۔ یہ سلسلہ کافی مدت تک چلتا رہا اور ایک وقت میں پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کی شادی باہمی طور پر ناجائز نہ تھی۔

No comments