facebook

Breaking News

ممنوعہ درخت سے متعلق تفصیل: (قصص الانبیاء)

ممنوعہ درخت سے متعلق تفصیل: (قصص الانبیاء)

حضرت اۤدم علیہ السلام کو جس درخت کے قریب جانے سے روکا گیا، اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے:
  • کہا گیا ہے کہ وہ انگور کا درخت تھا،  یہ بات ابنِ عباس رضی اللہ عنہ ابن مسعود، سعید بن جبیر، شعبی، جعدہ بن ہبیرہ اور محمد بن قیس رحمہم اللہ اجمعین سے منقول ہے۔
  • یہودیوں کا خیال ہے کہ وہ گندم کا پودا تھا ور یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے ایک روایت میں اور حسن بصری رضی اللہ عنہ ،  وہب بن منبہ اور عطیہ عوفی، ابو مالک، محارب بن دثار اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے منقول ہے۔
  • حضرت وہیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اس کا دانہ مکھی سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔
  • حضرت ثوری رحمہ اللہ نے ابو حصین کے واسطہ سے ابو مالک سے نقل کیا ہے کہ یہ کھجور کا درخت تھا۔
  • حضرت ابن جریج رحمہ اللہ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ وہ انجیر کا درخت تھا۔ قتادہ اور ابن جریج کا بھی یہی قول ہے۔
  • حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ نے کہا وہ ایسا درخت تھا کہ اس کو کھانے سے بول و براز کی ضرور یا ہوا خارج ہونے کی شکایت ہوتی تھی اور یہ چیزیں جنت کے شایانِ شان نہیں تھیں۔ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ویسے اللہ تعالیٰ نے اس کو متعین نہیں کیا، اگر اس کی تعیین میں ہمارے لیے کوئی مصلحت اور فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی وضاحت ضرور کر دیاتا ۔ قراۤن کریم میں اور بھی کئی امور مبہم رکھے گئے ہیں ، جن کی وضاحت ہمارے لیے کوئی خاص فادہ کا سبب نہ تھا۔

No comments